Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 63

Tafseer
  1. قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى﴿63﴾

    1. قَالُوْٓاوہ کہنے لگے
    2. اِنْتحقیق
    3. ھٰذٰىنِیہ دونوں
    4. لَسٰحِرٰنِالبتہ جادوگر
    5. يُرِيْدٰنِیہ چاہتے ہیں
    6. اَنْ يُّخْرِجٰكُمْکہ تمہیں نکال دیں
    7. مِّنْسے
    8. اَرْضِكُمْتمہاری سرزمین
    9. بِسِحْرِهِمَااپنے جادو کے ذریعہ
    10. وَيَذْهَبَااور وہ لے جائیں
    11. بِطَرِيْقَتِكُمُتمہارا طریقہ
    12. الْمُثْلٰىاچھا
Translation · Tafheem-ul-Quran
آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ”36 یہ دونوں تو محض جادُو گر ہیں۔ اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریقِ زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ 37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 36 اور یہ کہنے والے لازماً فرعونی پارٹی کے وہ سر پھرے لوگ ہوں گے جو حضرت موسیٰ کی مخالفت میں ہر بازی کھیل جانے پر تیار تھے۔ جہاندیدہ اور معاملہ فہم لوگ قدم آگے بڑھاتے ہوئے جھجک رہے ہوں گے۔ اور یہ سر پھرے جوشیلے لوگ کہتے ہوں گے کہ خواہ مخواہ کی دور اندیشیاں چھوڑ دو اور جی کڑا کر کے مقابلہ کر ڈالو۔ سورة طٰهٰ 37 یعنی ان لوگوں کا دار و مدار دو باتوں پر تھا۔ ایک یہ کہ اگر جادوگر بھی موسیٰ کی طرح لاٹھیوں سے سانپ بنا کر دکھا دیں گے تو موسیٰ کا جادوگر ہونا مجمع عام میں ثابت ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ تعصبات کی آگ بھڑکا کر حکمران طبقے کو اندھا جوش دلانا چاہتے تھے اور یہ خوف انہیں دلا رہے تھے کہ موسیٰ کا غالب آجانا تمہارے ہاتھوں سے ملک نکل جانے اور تمہارے مثالی (Ideal) طریق زندگی کے ختم ہوجانے کا ہم معنی ہے۔ وہ ملک کے با اثر طبقے کو ڈرا رہے تھے کہ اگر موسیٰ کے ہاتھ اقتدار آ گیا تو یہ تمہاری ثقافت، اور یہ تمہارے آرٹ، اور یہ تمہارا حسین و جمیل تمدن، اور یہ تمہاری تفریحات، اور یہ تمہاری خواتین کی آزادیاں (جن کے شاندار نمونے حضرت یوسف کے زمانے کی خواتین پیش کرچکی تھیں) غرض وہ سب کچھ جو کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ نہیں، غارت ہو کر رہ جائے گا۔ اس کے بعد تو نری " ملائیت " کا دور دورہ ہوگا جسے برداشت کرنے سے مر جانا بہتر ہے۔