تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 74
Tafseerاِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى﴿74﴾
- اِنَّهٗبیشک وہ
- مَنْ يَّاْتِجو آیا
- رَبَّهٗاپنے رب کے سامنے
- مُجْرِمًامجرم بن کر
- فَاِنَّتو بیشک
- لَهٗاس کے لیے
- جَهَنَّمَجہنم
- لَا يَمُوْتُنہ وہ مرے گا
- فِيْهَااس میں
- وَاور
- لَا يَحْيٰينہ جئے گا
Translation · Tafheem-ul-Quran
حقیقت 50 یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گا اُس کے لیے جہنّم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا۔ 51
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 50
یہ جادوگروں کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے۔ انداز کلام خود بتارہا ہے کہ یہ عبارت جادوگروں کے قول کا حصہ نہیں ہے۔
سورة طٰهٰ 51
یعنی موت اور زندگی کے درمیان لٹکتا رہے گا۔ نہ موت آئے گی کہ اس کی تکلیف اور مصیبت کا خاتمہ کر دے۔ اور نہ جینے کا ہی کوئی لطف اسے حاصل ہوگا کہ زندگی کو موت پر ترجیح دے سکے۔ زندگی سے بیزار ہوگا، مگر موت نصیب نہ ہوگی۔ مرنا چاہے گا مگر مر نہ سکے گا۔ قرآن مجید میں دوزخ کے عذابوں کی جتنی تفصیلات دی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک صورت عذاب یہی ہے جسکے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔