Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 97

  1. قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا﴿97﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. فَاذْهَبْپس تو جا
    3. فَاِنَّ لَكَبیشک تیرے لیے
    4. فِي الْحَيٰوةِزندگی میں
    5. اَنْکہ
    6. تَقُوْلَتو کہے
    7. لَانہ
    8. مِسَاسَچھونا (ہاتھ لگانا)
    9. وَاِنَّاور بیشک
    10. لَكَتیرے لیے
    11. مَوْعِدًاایک وقت مقرر
    12. لَّنْ تُخْلَفَهٗرہ گز تجھ سے خلاف نہ ہوگا
    13. وَانْظُرْاور دیکھ
    14. اِلٰٓىطرف
    15. اِلٰهِكَاپنے معبود
    16. الَّذِيْوہ جس
    17. ظَلْتَتو رہتا تھا
    18. عَلَيْهِاس پر
    19. عَاكِفًاجما ہوا
    20. لَنُحَرِّقَنَّهٗہم اسے البتہ جلائیں گے
    21. ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗپھر البتہ اسے بکھیر دیں گے
    22. فِي الْيَمِّدریا میں
    23. نَسْفًااڑا کر
Translation · Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے کہا”اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پُکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھُونا۔ 74 اور تیرے لیے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا۔ اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تُو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 74 یعنی صرف یہی نہیں کہ زندگی بھر کے لیے معاشرے سے اس کے تعلقات توڑ دیے گئے اور اسے اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا۔ بلکہ یہ ذمہ داری بھی اسی پر ڈالی گئی کہ ہر شخص کو وہ خود اپنے اچھوت پن سے آگاہ کرے اور دور ہی سے لوگوں کو مطلع کرتا رہے کہ میں اچھوت ہوں، مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ بائیبل کی کتاب احبار میں کوڑھیوں کی چھوت سے لوگوں کو بچانے کے لیے جو قواعد بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ " اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اس کے کپڑے پھٹے اور اس کے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک۔ جتنے دنوں تک وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک رہے گا اور وہ ہے بھی ناپاک۔ پس وہ اکیلا رہے، اس کا مکان لشکر گاہ کے باہر ہو "۔ (باب 13۔ آیت 45۔ 46)۔ اس سے گمان ہوتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے طور پر اس کو کوڑھ کے مرض میں مبتلا کردیا گیا ہوگا، یا پھر اس کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہوگی کہ جس طرح جسمانی کوڑھ کا مریض لوگوں سے الگ کردیا جاتا ہے اسی طرح اس اخلاقی کوڑھ کے مریض کو بھی الگ کردیا جائے، اور یہ بھی کوڑھی کی طرح پکار پکار کر ہر قریب آنے والے کو مطلع کرتا رہے کہ میں ناپاک ہوں، مجھے نہ چھونا۔