تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 99
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ﴿99﴾
- كَذٰلِكَاسی طرح
- نَقُصُّہم بیان کرتے ہیں
- عَلَيْكَتجھ پر۔ سے
- مِنْسے
- اَنْۢبَآءِخبریں، احوال
- مَاجو
- قَدْ سَبَقَگزر چکا
- وَقَدْ اٰتَيْنٰكَاور تحقیق ہم نے تمہیں دیا
- مِنْ لَّدُنَّااپنے پاس سے
- ذِكْرًا(کتاب) نصیحت
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے محمدؐ، 75 اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک”ذِکر“ (درسِ نصیحت)عطا کیا ہے۔ 76
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 75
موسیٰ ؑ کا قصہ ختم کر کے اب پھر تقریر کا رخ اس مضمون کی طرف مڑتا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک مرتبہ پلٹ کر سورة کی ان ابتدائی آیات کو پڑھ لیجیے جن کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ شروع ہوگیا تھا۔ اس سے آپ کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آجائے گی کہ سورة کا اصل موضوع بحث کیا ہے، بیچ میں قصہ موسیٰ کس لیے بیان ہوا ہے۔ اور اب قصہ ختم کر کے کس طرح تقریر اپنے موضوع کی طرف پلٹ رہی ہے۔
سورة طٰهٰ 76
یعنی یہ قرآن، جس کے متعلق آغاز سورة میں کہا گیا تھا کہ یہ کوئی ان ہونا کام تم سے لینے اور تم کو بیٹھے بٹھائے ایک مشقت میں مبتلا کردینے کے لیے نازل نہیں کیا گیا ہے، یہ تو ایک یاد دہانی اور نصیحت (تذکرہ) ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو۔