Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 10

  1. لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ع﴿10﴾

    1. لَقَدْ اَنْزَلْنَآتحقیقی ہم نے نازل کی
    2. اِلَيْكُمْتمہاری طرف
    3. كِتٰبًاایک کتاب
    4. فِيْهِاس میں
    5. ذِكْرُكُمْتمہارا ذکر
    6. اَفَلَا تَعْقِلُوْنَتو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگو، ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم سمجھتے نہیں  ہو؟ 12
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 12 یہ اکٹھا جواب ہے کفار مکہ کے ان مضطرب اقوال کا جو وہ قرآن اور محمد ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شاعری ہے، یہ ساحری ہے یہ پراگندہ خواب ہیں، یہ من گھڑت افسانے ہیں، وغیرہ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اس کتاب میں آخر وہ کونسی نرالی بات ہے جو تمہاری سمجھ میں نہ آتی ہو، جس کی وجہ سے اس کے متعلق تم اتنی متضاد راہیں قائم کر رہے ہو۔ اس میں تو تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔ تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیر بحث ہیں۔ تمہاری ہی فطرت اور ساخت اور آغاز و انجام پر گفتگو ہے۔ تمہارے ہی ماحول سے وہ نشانیاں چن چن کر پیش کی گئی ہیں جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ اور تمہارے ہی اخلاقی اوصاف میں سے فضائل اور قبائح کا فرق نمایاں کر کے دکھایا جا رہا ہے جس کے صحیح ہونے پر تمہارے اپنے ضمیر گواہی دیتے ہیں۔ ان سب باتوں میں کیا چیز ایسی گنجلک اور پیچیدہ ہے کہ اس کو سمجھنے سے تمہاری عقل عاجز ہو ؟