تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 2
مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ﴿2﴾
- مَا يَاْتِيْهِمْان کے پاس نہیں آتی
- مِّنْ ذِكْرٍکوئی نصیحت
- مِّنْ رَّبِّهِمْان کے رب سے
- مُّحْدَثٍنئی
- اِلَّامگر
- اسْتَمَعُوْهُوہ اسے سنتے ہیں
- وَهُمْاور وہ
- يَلْعَبُوْنَکھیلتے ہیں (کھیلتے ہوئے)
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان کے پاس جو تازہ نصیحت ہی ان کے ربّ کی طرف سے آتی ہے 3 اُس کو بے تکلف سُنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں، 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 3
یعنی قرآن کی ہر نئی سورت جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی ہے اور انہیں سنائی جاتی ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 4
وَھُمْ یَلْعَبُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو اوپر ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس میں کھیل سے مراد یہی زندگی ہے جسے خدا اور آخرت سے غافل لوگ کھیل رہے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنتے بلکہ کھیل اور مذاق کے طور پر سنتے ہیں۔