تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 36
Tafseerوَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿36﴾
- وَاِذَااور جب
- رَاٰكَتمہیں دیکھتے ہیں
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓاوہ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
- اِنْنہیں
- يَّتَّخِذُوْنَكَٹھہراتے تمہیں
- اِلَّامگر۔ صرف
- هُزُوًاایک ہنسی مذاق
- اَھٰذَاکیا یہ ہے
- الَّذِيْوہ جو
- يَذْكُرُیاد کرتا ہے
- اٰلِهَتَكُمْتمہارے معبود
- وَهُمْاور وہ
- بِذِكْرِذکر سے
- الرَّحْمٰنِرحمن (اللہ)
- هُمْوہ
- كٰفِرُوْنَمنکر (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ منکرینِ حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں”کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداوٴں کا ذکر کیا کرتا ہے؟“ 39 اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمٰن کے ذکر سے منکر ہیں۔ 40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 39
یعنی برائی کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ فقرہ ان کے مذاق کا مضمون نہیں بتارہا ہے، بلکہ مذاق اڑانے کی وجہ اور بنیاد پر روشنی ڈال رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فقرہ بجائے خود کوئی مذاق کا فقرہ نہیں ہے۔ مذاق تو وہ دوسرے ہی الفاظ میں اڑاتے ہوں گے اور کچھ اور ہی طرح کے آوازے کستے اور فقرے چست کرتے ہوں گے۔ البتہ یہ سارا دل کا بخار جس وجہ سے نکالا جاتا تھا وہ یہ تھی کہ آپ ان کے خود ساختہ معبودوں کی خدائی کا رد کرتے تھے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 40
یعنی بتوں اور بناوٹی خداؤں کی مخالفت تو انہیں اس قدر ناگوار ہے کہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تمہاری تضحیک و تذلیل کرتے ہیں، مگر انہیں خود اپنے حال پر شرم نہیں آتی کہ خدا سے پھرے ہوئے ہیں اور اس کا ذکر سن کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔