تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 52
Tafseerاِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ﴿52﴾
- اِذْ قَالَجب اس نے کہا
- لِاَبِيْهِاپنے باپ سے
- وَقَوْمِهٖاور اپنی قوم
- مَا هٰذِهِکیا ہیں یہ
- التَّمَاثِيْلُمورتیاں
- الَّتِيْٓجو کہ
- اَنْتُمْتم
- لَهَاان کے لیے
- عٰكِفُوْنَجمے بیٹھے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
54 یاد کرو وہ موقع جب کہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ”یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 54
جس واقعہ کا آگے ذکر کیا جا رہا ہے اس کو پڑھنے سے پہلے یہ بات اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ قریش کے لوگ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے، کعبہ ان ہی کا تعمیر کردہ تھا، سارے عرب میں کعبے کی مرکزیت ان ہی کی نسبت کے سبب سے تھی اور قریش کا سارا بھرم اسی لیے بندھا ہوا تھا کہ یہ اولاد ابراہیم ہیں اور کعبہ ابراہیمی کے مجاور ہیں۔ آج اس زمانے اور عرب سے دور دراز کے ماحول میں تو حضرت ابراہیم کا یہ قصہ صرف ایک سبق آموز تاریخی واقعہ ہی نظر آتا ہے، مگر جس زمانے اور ماحول میں اول اول یہ بیان کیا گیا تھا، اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے تو محسوس ہوگا کہ قریش کے مذہب اور ان کی برہمنیت پر یہ ایک ایسی کاری ضرب تھی جو ٹھیک اس کی جڑ پر جا کر لگتی تھی۔