Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 71

Tafseer
  1. وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ﴿71﴾

    1. وَنَجَّيْنٰهُاور ہم نے اسے بچا لیا
    2. وَلُوْطًااور لوط
    3. اِلَىطرف
    4. الْاَرْضِسرزمین
    5. الَّتِيْ بٰرَكْنَاوہ جس میں ہمنے برکت رکھی
    6. فِيْهَااس میں
    7. لِلْعٰلَمِيْنَجہانوں کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم اُسے اور لوطؑ 63 کو بچا کر اُس سر زمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں۔ 64
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 63 بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم کا جو تذکرہ آیا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ انکی قوم میں سے صرف ایک حضرت لوط ہی ان پر ایمان لائے تھے (ملاحظہ ہو آیت 26)۔ سورة الْاَنْبِیَآء 64 یعنی شام و فلسطین کی سر زمین۔ اس کی برکتیں مادی بھی ہیں اور روحانی بھی۔ مادی حیثیت سے وہ دنیا کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ہے۔ اور روحانی حیثیت سے وہ 2 ہزار برس تک انبیاء (علیہم السلام) کا مہبط رہی ہے۔ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں اتنی کثرت سے انبیاء مبعوث نہیں ہوئے ہیں۔