تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 76
وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ﴿76﴾
- وَنُوْحًااور نوح
- اِذْ نَادٰيجب پکارا
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- فَاسْتَجَبْنَاتو ہم نے قبول کرلی
- لَهٗاس کی
- فَنَجَّيْنٰهُپھر ہم نے اسے نجات دی
- وَاَهْلَهٗاور اس کے لوگ
- مِنَسے
- الْكَرْبِبےچینی
- الْعَظِيْمِبڑی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہی نعمت ہم نے نُوحؑ کو دی۔ یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا 68 تھا۔ ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کَربِ عظیم 69 سے نجات دی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 68
اشارہ ہے حضرت نوح کی اس دعا کی طرف جو ایک مدت دراز تک اپنی قوم کی اصلاح کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنے کے بعد آخر کار تھک کر انہوں نے مانگی تھی اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانتَصِرْ ، " پروردگار، میں مغلوب ہوگیا ہوں، اب میری مدد کو پہنچ " (القمر۔ آیت 10)۔ اور رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْ ض مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّاراً ہ " پروردگار، زمین پر ایک کافر باشندہ بھی نہ چھوڑ " (نوح۔ آیت 26)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 69
کرب عظیم سے مراد یا تو ایک بد کردار قوم کے درمیان زندگی بسر کرنے کی مصیبت ہے، یا پھر طوفان۔ حضرت نوح کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو۔ الاعراف، آیات 59 تا 64۔ یونس، آیات 71 تا 73۔ ھود۔ آیات 25 تا 48، بنی اسرائیل، آیت 3۔