Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 97

  1. وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿97﴾

    1. وَاقْتَرَبَاور قریب آجائے گا
    2. الْوَعْدُوعدہ
    3. الْحَقُّسچا
    4. فَاِذَاتو اچانک
    5. هِىَوہ
    6. شَاخِصَةٌاوپر لگی (پھٹی) رہ جائیں گی
    7. اَبْصَارُآنکھیں
    8. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا (کافر)
    9. يٰوَيْلَنَاہائے ہماری شامت
    10. قَدْ كُنَّاتحقیق ہم تھے
    11. فِيْ غَفْلَةٍغفلت میں
    12. مِّنْ ھٰذَااس سے
    13. بَلْ كُنَّابلکہ ہم تھے
    14. ظٰلِمِيْنَظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور وعدہٴِ بر حق کے پُورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا 93 تو یکایک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کُفر کیا تھا۔ کہیں گے”ہائے ہماری کم بختی، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطا کار تھے۔“ 94
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْبِیَآء 94 " غفلت " میں پھر ایک طرح کی معذرت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی غفلت کا ذکر کرنے کے بعد پھر خود ہی صاف صاف اعتراف کریں گے کہ ہم کو انبیاء نے آ کر اس دن سے خبردار کیا تھا، لہٰذا درحقیقت ہم غافل و بیخبر نہ تھے بلکہ خطا کار تھے۔