Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 35

Tafseer
  1. الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ﴿35﴾

    1. الَّذِيْنَوہ جو
    2. اِذَاجب
    3. ذُكِرَ اللّٰهُاللہ کا نام لیا جائے
    4. وَجِلَتْڈر جاتے ہیں
    5. قُلُوْبُهُمْان کے دل
    6. وَالصّٰبِرِيْنَاور صبر کرنے والے
    7. عَلٰيپر
    8. مَآ اَصَابَهُمْجو انہیں پہنچے
    9. وَالْمُقِيْمِياور قائم کرنے والے
    10. الصَّلٰوةِنماز
    11. وَمِمَّااور اس سے جو
    12. رَزَقْنٰهُمْہم نے انہیں دیا
    13. يُنْفِقُوْنَوہ خرچ کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سُنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اُٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ 66
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 65 اصل میں لفظ " مُخْبِتِین " استعمال کیا گیا ہے جس کا مفہوم کسی ایک لفظ سے پوری طرح ادا نہیں ہوتا۔ اس میں تین مفہومات شامل ہیں استکبار اور غرور نفس چھوڑ کر اللہ کے مقابلے میں عجز اختیار کرنا۔ اس کی بندگی و غلامی پر مطمئن ہوجانا اس کے فیصلوں پر راضی ہوجانا۔ سورة الْحَجّ 66 اس سے پہلے ہم اس امر کی تصریح کرچکے ہیں کہ اللہ نے کبھی حرام و ناپاک مال کو اپنا رزق نہیں فرمایا ہے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو پاک رزق ہم نے انہیں بخشا ہے اور جو حلال کمائیاں ان کو عطا کی ہیں ان میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ پھر خرچ سے مراد بھی ہر طرح کا خرچ نہیں ہے بلکہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جائز ضروریات پوری کرنا، رشتہ داروں اور ہمسایوں اور حاجت مند لوگوں کی مدد کرنا، رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لینا، اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے مالی ایثار کرنا مراد ہے۔ بےجا خرچ، اور عیش و عشرت کے خرچ اور ریاکارانہ خرچ وہ چیز نہیں ہے جسے قرآن " انفاق " قرار دیتا ہو، بلکہ یہ اس کی اصطلاح میں اسراف اور تبذیر ہے۔ اسی طرح کنجوسی اور تنگ دلی کے ساتھ جو خرچ کیا جائے، کہ آدمی اپنے اہل وعیاں کو بھی تنگ رکھے، اور خود بھی اپنی حیثیت کے مطابق اپنی ضرورتیں پوری نہ کرے، اور خلق خدا کی مدد بھی اپنی استطاعت کے مطابق کرنے سے جی چرائے، تو اس صورت میں اگرچہ آدمی خرچ تو کچھ نہ کچھ کرتا ہی ہے، مگر قرآن کی زبان میں اس خرچ کا نام انفاق " نہیں ہے۔ وہ اس کو " بخل " اور شُحِّ نفس " کہتا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 22 : 35