Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 41

  1. اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ﴿41﴾

    1. اَلَّذِيْنَوہ لوگ جو
    2. اِنْاگر
    3. مَّكَّنّٰهُمْہم دسترس دیں انہیں
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. اَقَامُواوہ قائم کریں
    6. الصَّلٰوةَنماز
    7. وَاٰتَوُااور ادا کریں
    8. الزَّكٰوةَزکوۃ
    9. وَاَمَرُوْااور حکم دیں
    10. بِالْمَعْرُوْفِنیک کاموں کا
    11. وَنَهَوْااور وہ روکیں
    12. عَنِ الْمُنْكَرِبرائی سے
    13. وَلِلّٰهِاور اللہ کیلئے
    14. عَاقِبَةُانجام کار
    15. الْاُمُوْرِتمام کام
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰة دیں گے، معرُوف کا حکم دیں گے اور مُنکَر سے منع کریں گے۔ 85 اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 86
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 85 یعنی اللہ کے مددگار اور اس کی تائید و نصرت کے مستحق لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انہیں حکومت و فرمانروائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہو، ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو، ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کار فرماؤں کی خصوصیات کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت فی الواقع کس چیز کا نام ہے۔ سورة الْحَجّ 86 یعنی یہ فیصلہ کہ زمین کا انتظام کس وقت کسے سونپا جائے دراصل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ مغرور بندے اس غلط فہمی میں ہیں کہ زمین اور اس کے بسنے والوں کی قسمتوں کے فیصلے کرنے والے وہ خود ہیں۔ مگر جو طاقت ایک ذرا سے بیج کو تناور درخت بنا دیتی ہے اور ایک تناور درخت کو بیزم سوختنی میں تبدیل کردیتی ہے، اسی کو یہ قدرت حاصل ہے کہ جن کے دبدبے کو دیکھ کر لوگ خیال کرتے ہوں کہ بھلا ان کو کون ہلا سکے گا انہیں ایسا گرائے کہ دنیا کے لیے نمونۂ عبرت بن جائیں، اور جنہیں دیکھ کر کوئی گمان بھی نہ کرسکتا ہو کہ یہ بھی کبھی اٹھ سکیں گے انہیں ایسا سر بلند کرے کہ دنیا میں ان کی عظمت و بزرگی کے ڈنکے بج جائیں۔