Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 55

  1. وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ﴿55﴾

    1. وَلَا يَزَالُاور ہمیشہ رہیں گے
    2. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا
    3. فِيْمیں
    4. مِرْيَةٍشک
    5. مِّنْهُاس سے
    6. حَتّٰىیہاں تک
    7. تَاْتِيَهُمُآئے ان پر
    8. السَّاعَةُقیامت
    9. بَغْتَةًاچانک
    10. اَوْ يَاْتِيَهُمْیا آجائے ان پر
    11. عَذَابُعذاب
    12. يَوْمٍ عَقِيْمٍمنحوس دن
Translation · Tafheem-ul-Quran
انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس دن 102 کا عذاب نازل ہوجائے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 102 اصل میں لفظ " عَقِیْم " استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ " بانجھ " ہے۔ دن کو بانجھ کہنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا منحوس دن ہو جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، ہر کوشش الٹی پڑے، اور ہر امید مایوسی میں تبدیل ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ وہ ایسا دن ہو جس کے بعد رات دیکھنی نصیب نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں مراد ہے وہ دن جس میں کسی قوم کی بربادی کا فیصلہ ہوجائے۔ مثلاً جس روز قوم نوح پر طوفان آیا، وہ اس کے لیے " بانجھ " دن تھا۔ اسی طرح عاد، ثمود، قوم، لوط، اہل مَدْیَن، اور دوسری سب تباہ شدہ قوموں کے حق میں عذاب الہٰی کے نزول کا دن بانجھ ہی ثابت ہو۔ کیونکہ اس " امروز " کا کوئی چارہ گری ان کے لیے ممکن نہ ہوئی جس سے وہ اپنی قسمت کی بگڑی بنا سکتے۔