تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 24. An-Noor · Ayah 40
اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ع﴿40﴾
- اَوْ كَظُلُمٰتٍیا جیسے اندھیرے
- فِيْ بَحْرٍدریا میں
- لُّجِّيٍّگہرا پانی
- يَّغْشٰىهُاسے ڈھانپ لیتی ہے
- مَوْجٌموج
- مِّنْ فَوْقِهٖاس کے اوپر سے
- مَوْجٌایک (دوسری) موج
- مِّنْ فَوْقِهٖاس کے اوپر سے
- سَحَابٌبادل
- ظُلُمٰتٌاندھیرے
- بَعْضُهَااس کے بعض (ایک)
- فَوْقَ بَعْضٍبعض (دوسرے) کے اوپر
- اِذَآجب
- اَخْرَجَوہ نکالے
- يَدَهٗاپنا ہاتھ
- لَمْ يَكَدْنزدیک نہیں (توقع نہیں)
- يَرٰىهَاتو وہ اسے دیکھے
- وَمَنْاور جسے
- لَّمْ يَجْعَلِنہ بنائے (نہ دے)
- اللّٰهُاللہ
- لَهٗاس کے لیے
- نُوْرًانور
- فَمَا لَهٗتو نہیں اس کے لیے
- مِنْ نُّوْرٍکوئی نور
Translation · Tafheem-ul-Quran
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اُوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اُوپر بادل، تاریکی مسلّط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔ 72 جسے اللہ نُور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نُور نہیں۔ 73
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النُّوْر 72
اس مثال میں تمام کفار و منافقین کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں نمائشی نیکیاں کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ان سب کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی قطعی اور کامل جہالت کی حالت میں بسر کر رہے ہیں، خواہ وہ دنیا کی اصطلاحوں میں علامہ دہر اور علوم و فنون کے استاذ الاساتذہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی جگہ پھنسا ہوا ہو جہاں مکمل تاریکی ہو، روشنی کی ایک کرن تک نہ پہنچ سکتی ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اور آواز سے تیز رفتار طیارے، اور چاند تک پہنچنے والی ہوائیاں بنا لینے کا نام علم ہے۔ ان کے نزدیک معاشیات اور مالیات اور قانون اور فلسفے میں مہارت کا نام علم ہے۔ مگر حقیقی علم ایک اور چیز ہے، اور اس کی ان کو ہوا تک نہیں لگی ہے۔ اس علم کے اعتبار سے وہ جاہل محض ہیں، اور ایک ان پڑھ دیہاتی ذی علم ہے اگر وہ معرفت حق سے بہرہ مند ہو۔
سورة النُّوْر 73
یہاں پہنچ کر وہ اصل مدعا کھول دیا گیا ہے جس کی تمہید اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے مضمون سے اٹھائی گئی تھی۔ جب کائنات میں کوئی نور درحقیقت اللہ کے نور کے سوا نہیں ہے، اور سارا ظہور حقائق اسی نور کی بدولت ہو رہا ہے، تو جو شخص اللہ سے نور نہ پائے وہ اگر کامل تاریکی میں مبتلا نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ کہیں اور تو روشنی موجود ہی نہیں ہے کہ اس سے ایک کرن بھی وہ پا سکے۔