تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 167
Tafseerقَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ﴿167﴾
- قَالُوْابولے وہ
- لَئِنْاگر
- لَّمْ تَنْتَهِتم باز نہ آئے
- يٰلُوْطُاے لوط
- لَتَكُوْنَنَّالبتہ ضرور تم ہوگے
- مِنَسے
- الْمُخْرَجِيْنَمخرج (نکالے جانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہوں نے کہا”اے لُوطؑ ، اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔“ 111
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّعَرَآء 111
یعنی تجھے معلوم ہے کہ اس سے پہلے جس نے بھی ہمارے خلاف زبان کھولی ہے یا ہماری حرکتوں پر احتجاج کیا ہے، یا ہماری مرضی کے خلاف کام کیا ہے، وہ ہماری بستیوں سے نکالا گیا ہے۔ اب اگر تو یہ باتیں کرے گا تو تیرا حشر بھی ایسا ہی ہوگا۔ سورة اعراف اور سورة نمل میں بیان ہوا ہے کہ حضرت لوط ؑ کو یہ نوٹس دینے سے پہلے اس شریر قوم کے لوگ آپس میں یہ طے کرچکے تھے کہ اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ۔ " لوط ؑ اور اس کے خاندان والوں اور ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ ان " صالحین " کو باہر کا راستہ دکھاؤ "۔