تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 171
Tafseerاِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ﴿171﴾
- اِلَّاسوائے
- عَجُوْزًاایک بڑھیا
- فِي الْغٰبِرِيْنَپیچھے رہ جانے والوں میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ 113
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّعَرَآء 113
اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے۔ سورة تحریم میں حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط کی بیویوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ کانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰھُمَا (آیت 10)۔ " یہ دونوں عورتیں ہمارے دو صالح بندوں کے گھر میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی "۔ یعنی دونوں ایمان سے خالی تھیں اور اپنے نیک شوہروں کا ساتھ دینے کے بجائے ان دونوں نے اپنی کافر قوم کا ساتھ دیا۔ اسی بنا پر جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط ؑ پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت لوط ؑ کو حکم دیا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر اس علاقے سے نکل جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ہدایت فرما دی کہ اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جاؤ، فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ (ہود آیت 81)۔ " پس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر نکل جا اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جا، اس پر وہی کچھ گزرنی ہے جو ان لوگوں پر گزرنی ہے "۔