تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 213
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ﴿213﴾
- فَلَا تَدْعُپس نہ پکارو
- مَعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
- اِلٰهًا اٰخَرَکوئی دوسرا معبود
- فَتَكُوْنَکہ ہوجاؤ
- مِنَسے
- الْمُعَذَّبِيْنَمبتلائے عذاب
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے محمدؐ ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاوٴ گے۔ 134
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّعَرَآء 134
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ سے شرک کا کوئی خطرہ تھا اور اس بنا پر آپ کو دھمکا کر اس سے روکا گیا۔ دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو تعلیم پیش کی جا رہی ہے یہ چونکہ خالص حق ہے فرمانروائے کائنات کی طرف سے، اور اس میں شیطانی آلائشوں کا ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے، اس لیے یہاں حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ رو رعایت کا کوئی کام نہیں۔ خدا کو سب سے بڑھ کر اپنی مخلوق میں کوئی عزیز و محبوب ہوسکتا ہے تو وہ اس کا رسول پاک ہے۔ لیکن بالفرض اگر وہ بھی بندگی کی راہ سے بال برابر ہٹ جائے اور خدائے واحد کے سوا کسی اور کو معبود کی حیثیت سے پکار بیٹھے تو پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ تا بدیگراں چہ رسد۔ اس معاملہ میں جب خود محمد ﷺ کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں تو اور کون ہے جو خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک ٹھہرانے کے بعد یہ امید کرسکتا ہو کہ خود بچ نکلے گا یا کسی کے بچانے سے بچ جائے گا۔