تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 32
Tafseerقَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ﴿32﴾
- قَالَتْوہ بولی
- يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُااے سردارو !
- اَفْتُوْنِيْمجھے رائے دو
- فِيْٓ اَمْرِيْمیرے معاملے میں
- مَا كُنْتُمیں نہیں ہوں
- قَاطِعَةًفیصلہ کرنے والی
- اَمْرًاکسی معاملہ میں
- حَتّٰىجب تک
- تَشْهَدُوْنِتم موجود ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
(خط سُنا کر)ملکہ نے کہا”اے سردارانِ قوم، میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں۔“38
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 38
اصل الفاظ ہیں حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ جب تک تکہ تم حاضر نہ ہو، یا تم گواہ نہ ہو، یعنی اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت تم لوگوں کی موجودگی مریے نزدیک ضروری ہے، اور یہ بھی کہ جو فیصلہ میں کروں اس کے صحیح ہونے کی تم شہادت دو ، اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قوم سبا میں بادشاہی نظام تو تھا مگر وہ استبدادی نظام نہ تھا بلکہ فرماں روائے وقت معاملات کے فیصلے اعیان سلطنت کے مشورے سے کرتا تھا۔