تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 41
Tafseerقَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿41﴾
- قَالَاس نے کہا
- نَكِّرُوْاوضع بدل دو
- لَهَااس کے لیے
- عَرْشَهَااس کا تخت
- نَنْظُرْہم دیکھیں
- اَتَهْتَدِيْٓآیا وہ راہ پاتی (سمجھ جاتی) ہے
- اَمْ تَكُوْنُیا ہوتی ہے
- مِنَسے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- لَا يَهْتَدُوْنَراہ نہیں پاتے (نہیں سمجھتے)
Translation · Tafheem-ul-Quran
50سلیمانؑ نے کہا”انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے۔“51
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 50
بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ ملکہ کیسے بیت المقدس پہنچی اور کسی طرح اس کا استقبال ہوا، اسے چھوڑ کر اب اس وقت کا حال بیان کیا جارہا ہے جب وہ حضرت سلیمان کی ملاقات کے لیے ان کے محل میں پہنچ گئی۔
سورة النمل 51
ذو معنی فقرہ ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پاکر یہ سمجھ جاتی ہے یا نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے، اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے۔
اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان اس تخت پر قبضہ کرنے کی نیت رکھتے تھے، یہاں وہ خود اس مقصد کا اظہار فرما رہے ہیں کہ انہوں نے یہ کام ملکہ کی ہدایت کے لیے کیا تھا۔