تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 46
Tafseerقَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿46﴾
- قَالَاس نے کہا
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- لِمَکیوں
- تَسْتَعْجِلُوْنَتم جلدی کرتے ہو
- بِالسَّيِّئَةِبرائی کے لیے
- قَبْلَپہلے
- الْحَسَنَةِبھلائی
- لَوْکیوں
- لَا تَسْتَغْفِرُوْنَتم بخشش نہیں مانگتے
- اللّٰهَاللہ
- لَعَلَّكُمْتاکہ تم
- تُرْحَمُوْنَتم پر رحم کیا جائے
Translation · Tafheem-ul-Quran
صالحؑ نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟59 کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شایک کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 59
یعنی اللہ سے خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی کرتے ہو ؟ دوسرے مقام پر قوم صالح کے سرداروں کا یہ قول نقل ہوچکا ہے کہ يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔ اے صالح لے آ وہ عذاب ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی رسولوں میں سے ہے۔ (الاعراف، آیت 77)