تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 16
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿16﴾
- قَالَاس نے عرض کیا
- رَبِّاے میرے رب
- اِنِّىْبیشک میں
- ظَلَمْتُمیں نے ظلم کیا
- نَفْسِيْاپنی جان
- فَاغْفِرْ لِيْپس بخشدے مجھے
- فَغَفَرَتو اس نے بخشدیا
- لَهٗاس کو
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہی
- الْغَفُوْرُبخشنے والا
- الرَّحِيْمُنہایت مہربان
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر وہ کہنے لگا”اے میرے ربّ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے۔“23 چنانچہ اللہ نے اُس کی مغفرت فرما دی، وہ غفورٌ رحیم ہے۔24
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 23
مغفرت کے معنی درگزر کرنے اور معاف کردینے کے بھی ہیں، اور ستر پوشی کرنے کے بھی، حضرت موسیٰ کی دعا کا مطلب یہ تھا کہ میرے اس گناہ کو (جسے تو جانتا ہے کہ میں نے عمدا نہیں کیا ہے) معاف بھی فرمادے اور اس کا پردہ بھی ڈھانک دے تاکہ دشمنوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
سورة القصص 24
اس کے بھی دو مطلب ہیں، اور دونوں یہاں مراد ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور معاف معاف بھی فرما دیا اور حضرت موسیٰ کا پردہ بھی ڈھانک دیا، یعنی قبطی قوم کے کسی فرد اور قبطی حکومت کے کسی آدمی کا اس وقت ان کے آس پاس کہیں گزر نہ ہوا کہ وہ قتل کے اس واقعہ کو دیکھ لیتا۔ اس طرح حضرت موسیٰ کو خاموشی کے ساتھ موقع واردات سے نکل جانے کا موقع مل گیا۔