تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 18
فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ﴿18﴾
- فَاَصْبَحَپس صبح ہوئی اس کی
- فِي الْمَدِيْنَةِشہر میں
- خَآئِفًاڈرتا ہوا
- يَّتَرَقَّبُانتظار کرتا ہوا
- فَاِذَا الَّذِيتو ناگہاں وہ جس
- اسْتَنْصَرَهٗاس نے مددمانگی تھی اس سے
- بِالْاَمْسِکل
- يَسْتَصْرِخُهٗوہ (پھر) اس سے فریاد کر رہا ہے
- قَالَکہا
- لَهٗاس کو
- مُوْسٰٓىموسیٰ
- اِنَّكَبیشک تو
- لَغَوِيٌّالبتہ گمراہ
- مُّبِيْنٌکھلا
Translation · Tafheem-ul-Quran
دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکاررہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا”تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔“27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 27
یعنی تو جھگڑالو آدمی معلوم ہوتا ہے۔ روز تیرا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ کل ایک شخص سے بھڑ گیا تھا، آج ایک دوسرے شخص سے جا بھڑا۔