تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 26
فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿26﴾
- فَاٰمَنَپس ایمان لایا
- لَهٗاس پر
- لُوْطٌلوط
- وَقَالَاور اس نے کہا
- اِنِّىْبیشک میں
- مُهَاجِرٌہجرت کرنیوالا
- اِلٰى رَبِّيْاپنے رب کی طرف
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہ
- الْعَزِيْزُزبردست غالب
- الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس وقت لُوطؑ نے اُس کو مانا۔44 اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے ربّ کی طرف ہجرت کرتا ہوں،45 وہ زبردست ہے اور حکیم ہے۔46
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 44
ترتیب کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم آگ سے نکل آئے اور انہوں نے اوپر کے فقرے ارشاد فرمائے اس وقت سارے مجمع میں صرف ایک حضرت لوط تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر ان کو ماننے اور ان کی پیروی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر دوسرے بہت سے لوگ بھی اپنے دل میں حضرت ابراہیم کی صداقت کے قائل ہوگئے ہوں۔ لیکن پوری قوم اور سلطنت کی طرف سے دین ابراہیم کے خلاف جس غضب ناک جذبے کا اظہار اس وقت سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اسے دیکھتے ہوئے کوئی دوسرا شخص ایسے خطرناک حق کو ماننے اور اس کا ساتھ دینے کی جرات نہ کرسکا۔ یہ سعادت صرف ایک آدمی کے حصے میں آئی اور وہ حضرت ابراہیم کے بھتیجے حضرت لوط تھے جنہوں نے آخر کار ہجرت میں بھی اپنے چچا اور چچی (حضرت سارہ) کا ساتھ دیا۔
یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے جسے رفع کردینا ضروری ہے۔ ایک شخص سوال کرسکتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے حضرت لوط کافر و مشرک تھے اور آگ سے حضرت ابراہیم کے بسلامت نکل آنے کا معجزہ دیکھنے کے بعد انہیں نعمت ایمان میسر آئی ؟ اگر یہ بات ہے تو کیا نبوت کے منصب پر کوئی ایسا شخص بھی سرفراز ہوسکتا ہے جو پہلے مشرک رہ چکا ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے یہاں فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے پہلے حضرت لوط خداوند عالم کو نہ مانتے ہوں، یا اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کرتے ہوں، بلکہ ان سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے حضرت ابراہیم کی رسالت کی تصدیق کی اور ان کی پیروی اختیار کرلی۔ ایمان کے ساتھ جب لام کا صلہ آتا ہے تو اس کے معنی کسی شخص کی بات ماننے اور اس کی اطاعت کرنے کے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ حضرت لوط اس وقت ایک نو عمر لڑکے ہی ہوں اور اپنے ہوش میں ان کو پہلی مرتبہ اس موقع پر ہی اپنے چچا کی تعلیم سے واقف ہونے اور ان کی شان رسالت سے آگاہ ہونے کا موقع ملا ہو۔
سورة العنکبوت 45
یعنی اپنے رب کی خاطر ملک چھوڑ کر نکلتا ہوں، اب جہاں میرا رب لے جائے گا وہاں چلا جاؤں گا۔
سورة العنکبوت 46
یعنی وہ میری حمایت و حفاظت پر قادر ہے اور میرے حق میں اس کا جو فیصلہ بھی ہوگا حکمت پر مبنی ہوگا۔