Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 31

  1. وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ﴿31﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. جَآءَتْآئے
    3. رُسُلُنَآہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے)
    4. اِبْرٰهِيْمَابراہیم
    5. بِالْبُشْرٰىخوشخبری لے کر
    6. قَالُوْٓاانہوں نے کہا
    7. اِنَّابیشک ہم
    8. مُهْلِكُوْٓاہلاک کرنے والے
    9. اَهْلِلوگ
    10. هٰذِهِ الْقَرْيَةِاس بستی
    11. اِنَّبیشک
    12. اَهْلَهَااس کے لوگ
    13. كَانُوْا ظٰلِمِيْنَظالم (بڑے شریر) ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے53 تو انہوں نے اُس سے کہا”ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں،54  اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 53 سورة ہود اور سورة حجر میں اس کی تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے وہ پہلے حجرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے آنجناب کو حضرت اسحاق اور ان کے بعد حضرت یعقوب کی پیدائش کی بشارت دی، پھر یہ بتایا کہ ہمیں قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ سورة العنکبوت 54 " اس بستی " کا اشارہ قوم لوط کے علاقے کی طرف ہے۔ حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین کے شہر حبرون (موجودہ الخلیل) میں رہتے تھے۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Dead Sea) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی اور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اور حبرون کی بلند پہاڑیوں پر سے صاف نظر آتا ہے۔ اسی لیے فرشتوں نے اس کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ " ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں " (ملاحظہ ہو سورة شعراء حاشیہ 114)