تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 36
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿36﴾
- وَاور
- اِلٰى مَدْيَنَمدین کی طرف
- اَخَاهُمْان کا بھائی
- شُعَيْبًاشعیب کو
- فَقَالَپس اس نے کہا
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- اعْبُدُواتم عبادت کرو
- اللّٰهَاللہ
- وَارْجُوااور امید وار رہو
- الْيَوْمَ الْاٰخِرَآخرت کا دن
- وَاور
- لَا تَعْثَوْانہ پھرو
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- مُفْسِدِيْنَفساد کرتے ہوئے (مچاتے)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔61 اُس نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے اُمیدوار رہو62 اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة العنکبوت 61
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، رکوع 11۔ ہود 8۔ الشعراء 10۔
سورة العنکبوت 62
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آخرت کے آنے کی توقع رکھو، یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزا و سزا پانا ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرو جس سے تم آخرت میں انجام بہتر ہونے کی امید کرسکو۔