تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 149
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ﴿149﴾
- يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓااے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو
- اِنْ تُطِيْعُوااگر تم اطاعت کرو
- الَّذِيْنَان لوگوں کی
- كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
- يَرُدُّوْكُمْوہ پھیر دیں گے تم کو
- عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْاوپر تمہاری ایڑیوں کے
- فَتَنْقَلِبُوْاتو لوٹ جاؤ گے تم۔ پلٹ جاؤ گے تم
- خٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے ہوکر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے108 اور تم نامراد ہو جا ؤ گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 108
یعنی جس کفر کی حالت سے تم نکل کر آئے ہو اسی میں تمہیں پھر واپس لے جائیں گے۔ منافقین اور یہودی احد کی شکست کے بعد مسلمانوں میں یہ خیال پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ محمد ﷺ اگر واقعی نبی ہوتے تو شکست کیوں کھاتے۔ یہ تو ایک معمولی آدمی ہیں۔ ان کا معاملہ بھی دوسرے آدمیوں کی طرح ہے۔ آج فتح ہے تو کل شکست۔ خدا کی جس حمایت و نصرت کا انہوں نے تم کو یقین دلا رکھا ہے وہ محض ایک ڈھونگ ہے۔