تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 23
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿23﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖاور اس کی نشانیوں سے
- مَنَامُكُمْتمہارا سونا
- بِالَّيْلِرات میں
- وَالنَّهَارِاور دن
- وَابْتِغَآؤُكُمْاور تمہارا تلاش کرنا
- مِّنْ فَضْلِهٖ ۭاس کے فضل سے
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
- لِّقَوْمٍان لوگوں کے لیے
- يَّسْمَعُوْنَوہ سنتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔33 یقیناًاس میں سے بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 33
فضل کو تلاش کرنے سے مراد رزق کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنا ہے۔ انسان اگرچہ بالعموم رات کو سوتا اور دن کو اپنی معاش کے لیے جدو جہد کرتا ہے، لیکن یہ کلیہ نہیں ہے۔ بہت سے انسان دن کو بھی سوتے اور رات کو بھی معاش کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسی لیے رات اور دن کا اکٹھا ذکر کر کے فرمایا کہ ان دونوں اوقات میں تم سوتے بھی ہو اور اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہو۔
یہ چیز بھی ان نشانیوں میں سے ہے جو ایک خالق حکیم کی تدبیر کا پتہ دیتی ہیں۔ بلکہ مزید برآں یہ چیز اس بات کی نشان دہی بھی کرتی ہے کہ وہ محض خالق ہی نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر غایت درجہ رحیم و شفیق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں کے لیے خود اس سے بڑھ کر فکر کرنے والا ہے۔ انسان دنیا میں مسلسل محنت نہیں کرسکتا بلکہ ہرچند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لیے آرام درکار ہوتا ہے تاکہ پھر چند گھنٹے محنت کرنے کے لیے اسے قوت بہم پہنچ جائے۔ اس غرض کے لیے خالق حکیم و رحیم نے انسان کے اندر صرف تکان کا احساس، اور صرف آرام کی خواہش پیدا کردینے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے " نیند " کا ایک ایسا زبردست داعیہ اس کے وجود میں رکھ دیا جو اس کے ارادے کے بغیر، حتی کہ اس کی مزاحمت کے باوجود، خود بخود ہرچند گھنٹوں کی بیداری و محنت کے بعد اسے آ دبوچتا ہے، چند گھنٹے آرام لینے پر اس کو مجبور کردیتا ہے، اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد خودبخود اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اس نیند کی ماہیت و کیفیت اور اس کے حقیقی اسباب کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا ہے۔ یہ قطعا ایک پیدائشی چیز ہے جو آدمی کی فطرت اور اس کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے۔ اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا ہی اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ کسی حکیم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ تدبیر وضع کی ہے۔ اس میں ایک بڑی حکمت و مصلحت اور مقصدیت صاف طور پر کار فرما نظر آتی ہے۔ مزید برآں یہی نیند اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جس نے یہ مجبور کن داعیہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ انسان کے حق میں خود اس سے بڑھ کر خیر خواہ ہے ورنہ انسان بالارادہ نیند کی مزاحمت کر کے اور زبردستی جاگ جاگ کر اور مسلسل کام کر کر کے اپنی قوت کار کو ہی نہیں، قوت حیات تک کو ختم کر ڈالتا۔
پھر رزق کی تلاش کے لے " اللہ کے فضل کی تلاش " کا لفظ استعمال کر کے نشانیوں کے ایک دوسرے سلسلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آدمی آخر یہ رزق تلاش ہی کہاں کرسکتا تھا اگر زمین و آسمان کی بےحد و حساب طاقتوں کو رزق کے اسباب و ذرائع پیدا کرنے میں نہ لگا دیا گیا ہوتا، اور زمین میں انسان کے لیے رزق کے بیشمار ذرائع نہ پیدا کردیے گئے ہوتے۔ صرف یہی نہیں بلکہ رزق کی یہ تلاش اور اس کا اکتساب اسی صورت میں بھی ممکن نہ ہوتا اگر انسان کو اس کام کے لیے مناسب ترین اعضاء اور مناسب ترین جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں نہ دی گئی ہوتیں۔ پس آدمی کے اندر تلاش رزق کی قابلیت اور اس کے وجود سے باہر وسائل رزق کی موجودگی، صاف صاف ایک رب رحیم و کریم کے وجود کا پتہ دیتی ہے۔ جو عقل بیمار نہ ہو وہ کبھی یہ فرض نہیں کرسکتی کہ یہ سب کچھ اتفاقا ہوگیا ہے، یا یہ بہت سے خداؤں کا کرشمہ ہے، یا کوئی بےدرد اندھی قوت اس فضل و کرم کی ذمہ دار ہے۔