Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 25

  1. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ﴿25﴾

    1. وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓاور اس کی نشانیوں سے
    2. اَنْکہ
    3. تَقُوْمَقائم ہیں
    4. السَّمَآءُآسمان
    5. وَالْاَرْضُاور زمین
    6. بِاَمْرِهٖ ۭاس کے حکم سے
    7. ثُمَّپھر
    8. اِذَا دَعَاكُمْجب وہ تمہیں بلائے گا
    9. دَعْوَةً ڰایک ندا
    10. مِّنَ الْاَرْضِ ڰزمین سے
    11. اِذَآ اَنْتُمْیکبارگی تم
    12. تَخْرُجُوْنَنکل آؤ گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کےحکم سے قائم ہیں۔36 پھر جو نہی کہ اس نےتمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 36 یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ اس کے حکم سے ایک دفعہ وجود میں آگئے ہیں، بلکہ ان کا مسلسل قائم رہنا اور ان کے اندر ایک عظیم الشان کارگاہ ہستی کا پیہم چلتے رہنا بھی اسی کے حکم کی بدولت ہے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اگر اس کا حکم انہیں برقرار نہ رکھے تو یہ سارا نظام یک لخت درہم برہم ہوجائے۔ سورة الروم 37 یعنی کائنات کے خالق و مدبر کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کوئی ایسا بڑا کام نہیں ہے کہ اسے اس کے لیے بہت بڑی تیاریاں کرنی ہوں گی، بلکہ اس کی صرف ایک پکار اس کے لیے بالکل کافی ہوگی کہ آغاز آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب ایک ساتھ زمین کے ہر گوشے سے نکل کھڑے ہوں۔