تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 32. As-Sajda · Ayah 23
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿23﴾
- وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دی
- مُوْسَىموسیٰ
- الْكِتٰبَکتاب (توریت)
- فَلَا تَكُنْتو تم نہ رہو
- فِيْ مِرْيَةٍشک میں
- مِّنْسے۔ متعلق
- لِّقَآئِهٖاس کا ملنا
- وَجَعَلْنٰهُاور ہم نے بنایا اسے
- هُدًىہدایت
- لِّبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس سے پہلے ہم موسیٰؑ کو کتاب دے چکے ہیں، لہٰذا اُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ 35 اُس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کےلیے ہدایت بنایا تھا 36
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة السَّجْدَة 35
خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو حضور ﷺ کی رسالت میں، اور آپ کے اوپر کتاب اِلٰہی کے نازل ہونے میں شک کر رہے تھے۔ یہاں سے کلام کا رخ اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جو آغاز سورة (آیات نمبر 2 اور 3) میں بیان ہوا تھا۔ کفار مکہ کہہ رہے تھے کہ محمد ﷺ پر خدا کی طرف سے کوئی کتاب نہیں آئی ہے انہوں نے اسے خود گھڑ لیا ہے اور دعویٰ یہ کر رہے ہیں کہ خدا نے اسے نازل کیا ہے۔ اس کا ایک جواب ابتدائی آیات میں دیا گیا تھا۔ اب اس کا دوسرا جواب دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات جو فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے نبی یہ نادان لوگ تم پر کتاب الٰہی کے نازل ہونے کو اپنے نزدیک بعید از امکان سمجھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر دوسرا شخص بھی اگر اس کا انکار نہ کرے تو کم از کم اس کے متعلق شک ہی میں پڑجائے۔ لیکن ایک بندے پر خدا کی طرف سے کتاب نازل ہونا ایک نرالا واقعہ تو نہیں ہے جو انسانی تاریخ میں آج پہلی مرتبہ ہی پیش آیا ہو۔ اس سے پہلے متعدد انبیاء پر کتابیں نازل ہوچکی ہیں جن میں سے مشہور ترین کتاب وہ ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی۔ لہٰذا اسی نوعیت کی ایک چیز آج تمہیں دی گئی ہے تو آج آخر اس میں انوکھی بات کیا ہے جس پر خواہ مخواہ شک کیا جائے۔
سورة السَّجْدَة 36
یعنی وہ کتاب بنی اسرائیل کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائی گئی تھی اور یہ کتاب اسی طرح تم لوگوں کی رہنمائی کے لئے بھیجی گئی ہے جیسا کہ آیت نمبر 3 میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اس ارشاد کی پوری معنویت اس کے تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے ہی سمجھ میں آسکتی ہے۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے اور کفار مکہ بھی اس سے ناواقف نہ تھے بنی اسرائیل کئی صدی تک مصر میں انتہائی ذلت و نکبت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان موسیٰ ؑ کو پیدا کیا ان کے ذریعہ سے اس قوم کو غلامی کی حالت سے نکالا پھر ان پر کتاب نازل کی اور اس کے فیض سے وہی دبی اور پسی ہوئی قوم ہدایت پاکر دنیا میں ایک نامور قوم بن گئی۔ اس تاریخ کی طرف اشارہ کر کے اہل عرب سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے وہ کتاب بھیجی گئی ہے، اسی طرح تمہاری ہدایت کے لئے یہ کتاب بھیجی گئ ہے۔