تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 33. Al-Ahzaab · Ayah 14
وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا﴿14﴾
- وَلَوْاور اگر
- دُخِلَتْداخل ہوجائیں
- عَلَيْهِمْان پر
- مِّنْسے
- اَقْطَارِهَااس (مدینہ) کے اطراف
- ثُمَّپھر
- سُئِلُواان سے چاہا جائے
- الْفِتْنَةَفساد
- لَاٰتَوْهَاتو وہ ضرور اسے دیں گے
- وَمَا تَلَبَّثُوْااور نہ دیر لگائیں گے
- بِهَآاس (گھر) میں
- اِلَّامگر (صرف)
- يَسِيْرًاتھوڑی سی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھُس آئے ہوتے اور اُس وقت اِنہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی26 تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریکِ فتنہ ہونے میں کوئی تامّل ہوتا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْزَاب 26
یعنی اگر شہر میں داخل ہو کر فاتح کفار ان منافقین کو دعوت دیتے کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ختم کردو۔