تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 22
قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ﴿22﴾
- قُلِفرمادیں
- ادْعُواپکارو
- الَّذِيْنَان کو جنہیں
- زَعَمْتُمْگمان کرتے ہو
- مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۚاللہ کے سوا
- لَا يَمْلِكُوْنَوہ مالک نہیں ہیں
- مِثْقَالَ ذَرَّةٍایک ذرہ کے برابر
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَلَااور نہ
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَمَااور نہین
- لَهُمْان کا
- فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍان ( آسمان و زمین) میں کوئی ساجھا
- وَّمَا لَهٗاور نہیں اس (اللہ) کا)
- مِنْهُمْان میں سے
- مِّنْ ظَهِيْرٍکوئی مددگار
Translation · Tafheem-ul-Quran
38 (اے نبیؐ ، اِن مشرکین سے)کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو 39۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیّت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 38
پچھلے دو رکوعوں میں آخرت کے متعلق مشرکین کے غلط تصورات پر کلام فرمایا گیا تھا۔ اب تقریر کا رخ تردید شرک کے مضمون کی طرف پھر رہا ہے۔
سورة سَبـَا 39
یعنی اللہ تو یوں اشخاص اور اقوام اور سلطنتوں کی قسمتیں بناتا اور بگاڑتا ہے، جیسا کہ ابھی تم داؤد و سلیمان (علیہما السلام) اور قوم سبا کے ذکر میں سن چکے ہو۔ اب ذرا اپنے ان بناوٹی معبودوں کو پکار کر دیکھ لو، کیا ان میں بھی یہ طاقت ہے کہ کسی کے اقبال کو ادبار سے، یا ادبار کو اقال سے بدل سکیں ؟