تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 34. Saba · Ayah 8
اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ﴿8﴾
- اَفْتَرٰىاس نے باندھا
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- كَذِبًاجھوٹ
- اَمْیا
- بِهٖاسے
- جِنَّةٌ ۭجنون
- بَلِبلکہ
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں رکھتے
- بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
- فِي الْعَذَابِعذاب میں
- وَالضَّلٰلِاور گمراہی
- الْبَعِيْدِدور
Translation · Tafheem-ul-Quran
نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھُوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنُون لاحق ہے۔“ 10 نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة سَبـَا 10
قریش کے سردار اس بات کو خوب جانتے تھے کہ محمد ﷺ کو جھوٹا تسلیم کرنا عوام الناس کے لیے سخت مشکل ہے، کیونکہ ساری قوم آپ کو صادق القول جانتی تھی اور کبھی ساری عمر کسی نے آپ کی زبان سے کوئی جھوٹی بات نہ سنی تھی۔ اس لیے وہ لوگوں کے سامنے اپنا الزام اس شکل میں پیش کرتے تھے کہ یہ شخص جب زندگی بعد موت جیسی انہونی بات زبان سے نکالتا ہے تو لامحالہ اس کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا تو (معاذ اللہ) یہ شخص جان بوجھ کر ایک جھوٹی بات کہہ رہا ہے، یا پھر یہ مجنون ہے۔ لیکن یہ مجنون والی بات بھی اتنی ہی بےسرو پا تھی جتنی جھوٹ والی بات تھی۔ اس لیے کہ کوئی عقل کا اندھا ہی ایک کمال درجہ کے عاقل و فہیم آدمی کو مجنون مان سکتا تھا، ورنہ آنکھوں دیکھتے کوئی شخص جیتی مکھی کیسے نگل لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ بات کے جواب میں کسی استدلال کی ضرورت محسوس نہ فرمائی اور کلام صرف ان کے اس اچنبھے پر کیا جو موت کے امکان پر وہ ظاہر کرتے تھے۔
سورة سَبـَا 11
یہ ان کی بات کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نادانو، عقل تو تمہاری ماری گئی ہے کہ جو شخص حقیقت حال سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے اس کی بات نہیں مانتے اور سرپٹ اس راستے پر چلے جا رہے ہو جو سیدھا جہنم کی طرف جاتا ہے، مگر تمہاری حماقت کی طغیانی کا یہ عالم ہے کہ الٹا اس شخص کو مجنون کہتے ہو جو تمہیں بچانے کی فکر کر رہا ہے۔