تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 35. Faatir · Ayah 9
وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ﴿9﴾
- وَاللّٰهُاور اللہ
- الَّذِيْٓوہ جس نے
- اَرْسَلَبھیجا
- الرِّيٰحَہوائیں
- فَتُثِيْرُپھر وہ اٹھاتی ہیں
- سَحَابًابادل
- فَسُقْنٰهُپھر ہم اسے لے گئے
- اِلٰىطرف
- بَلَدٍ مَّيِّتٍمردہ شہر
- فَاَحْيَيْنَاپھر ہم نے زندہ کیا
- بِهِاس سے
- الْاَرْضَزمین
- بَعْدَ مَوْتِهَا ۭاس کے مرنے کے بعد
- كَذٰلِكَاسی طرح
- النُّشُوْرُجی اٹھنا
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ اللہ ہی تو ہے جو ہواوٴں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اُٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اسی زمین کو جِلا اُٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی۔ مرے ہوئے انسانوں کا جی اُٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔ 19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة فَاطِر 19
یعنی یہ نادان لوگ آخرت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں اور اسی لیے اپنی جگہ اس خیال میں مگن ہیں کہ دنیا میں یہ خواہ کچھ کرتے رہیں بہرحال وہ وقت کبھی آنا نہیں ہے جب انہیں جواب دہی کے لیے خدا کے حضور حاضر ہونا پڑے گا۔ لیکن یہ محض ایک خیال خام ہے جس میں یہ مبتلا ہیں۔ قیامت کے روز تمام اگلے پچھلے مرے ہوئے انسان اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر بالکل اسی طرح یکایک جی اٹھیں گے جس طرح ایک بارش ہوتے ہی سونی پڑی ہوئی زمین یکایک لہلہا اٹھتی ہے اور مدتوں کی مری ہوئی جڑیں سرسبز و شاداب ہو کر زمین کی تہوں میں سے سر نکالنا شروع کردیتی ہیں۔