Tafheem-ul-Quran - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
بستی والے کہنے لگے”ہم تو تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ 14 اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاوٴگے۔“
سورة یٰسٓ 14 اس سے ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ تم ہمارے لیے منحوس ہو، تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کی ہیں ان کی وجہ سے دیوتا ہم سے ناراض ہوگئے ہیں، اور اب جو آفت بھی ہم پر نازل ہو رہی ہے وہ تمہاری بدولت ہی ہو رہی ہے۔ ٹھیک یہی باتیں عرب کے کفار و منافقین نبی ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ، " اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری بدولت ہے " (النساء 77)۔ اسی لیے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ ایسی ہی جاہلانہ باتیں قدیم زمانے کے لوگ بھی اپنے انبیاء کے متعلق کہتے رہے ہیں۔ قوم ثمود اپنے نبی سے کہتی تھی اِطَّیَّرْنَا بِکَ وَ بِمَنْ مَّعَکَ ، " ہم نے تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس پایا ہے۔ " (النمل 47) اور یہی رویہ فرعون کی قوم کا بھی تھا کہ فَاِذَا جَآءَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُوْا بِمُوسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ۔ " جب ان پر اچھی حالت آتی تو کہتے کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے، اور اگر کوئی مصیبت ان پر آپڑتی تو اسے موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے " (الا عراف 130)
Top