Tafheem-ul-Quran - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
آخر کیوں نہ میں اُس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے؟ 18
سورة یٰسٓ 18 اس فقرے کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ استدلال کا شاہکار ہے، اور دوسرے حصے میں حکمت تبلیغ کا کمال دکھایا گیا ہے۔ پہلے حصے میں وہ کہتا ہے کہ خالق کی بندگی کرنا تو سراسر عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ نامعقول بات اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ آدمی ان کی بندگی کرے جنہوں نے اسے پیدا نہیں کیا ہے، نہ یہ کہ وہ اس کا بندہ بن کر رہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ دوسرے حصے میں وہ اپنی قوم کے لوگوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ مرنا آخر تم کو بھی ہے، اور اسی خدا کی طرف جانا ہے جس کی بندگی اختیار کرنے پر تمہیں اعتراض ہے۔ اب تم خود سوچ لو کہ اس سے منہ موڑ کر تم کس بھلائی کی توقع کرسکتے ہو۔
Top