Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 36. Yaseen · Ayah 47

Tafseer
  1. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿47﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. قِيْلَکہا جائے
    3. لَهُمْان سے
    4. اَنْفِقُوْاخرچ کرو تم
    5. مِمَّااس سے جو
    6. رَزَقَكُمُتمہیں دیا
    7. اللّٰهُ ۙاللہ
    8. قَالَکہتے ہیں
    9. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
    10. لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاان لوگوں سے جو ایمان لائے (مومن)
    11. اَنُطْعِمُکیا ہم کھلائیں
    12. مَنْ(اس کو) جسے
    13. لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُاگر اللہ چاہتا
    14. اَطْعَمَهٗٓ ڰاسے کھانے کو دیتا
    15. اِنْنہیں
    16. اَنْتُمْتم
    17. اِلَّامگر۔ صرف
    18. فِيْمیں
    19. ضَلٰلٍگمراہی
    20. مُّبِيْنٍکھلی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ”کیا ہم اُن کو کھِلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھِلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو۔“ 43
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یٰسٓ 43 اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کفر نے صرف ان کی عقل ہی اندھی نہیں کی ہے بلکہ ان کی اخلاقی حس کو بھی مردہ کردیا ہے۔ وہ نہ خدا کے بارے میں صحیح تفکر سے کام لیتے ہیں، نہ خلق کے ساتھ صحیح طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہر نصیحت کا الٹا جواب ہے۔ ہر گمراہی اور بد اخلاقی کے لیے ایک اوندھا فلسفہ ہے۔ ہر بھلائی سے فرار کے لیے ایک گھڑا گھڑایا بہانا موجود ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 36 : 47