Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 36. Yaseen · Ayah 50

Tafseer
  1. فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ع﴿50﴾

    1. فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَپھر نہ کرسکیں گے
    2. تَوْصِيَةًوصیت کرنا
    3. وَّلَآاور نہ
    4. اِلٰٓىطرف
    5. اَهْلِهِمْاپنے گھر والے
    6. يَرْجِعُوْنَوہ لوٹ سکیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اُس وقت یہ وصیّت  تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔  46
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یٰسٓ 46 یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ قیامت آہستہ آہستہ آ رہی ہے اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ آ رہی ہے۔ بلکہ وہ اس طرح آئے گی کہ لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی دنیا کے کاروبار چلا رہے ہیں اور ان کے حاشیہ خیال میں بھی یہ تصور موجود نہیں ہے کہ دنیا کے خاتمہ کی گھڑی آپہنچی ہے۔ اس حالت میں اچانک ایک زور کا کڑاکا ہوگا اور جو جہاں تھا وہیں دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ راستوں پر چل رہے ہوں گے، بازاروں میں خریدو فروخت کر رہے ہوں گے، اپنی مجلسوں میں بیٹھے گفتگوئیں کر رہے ہوں گے۔ ایسے میں یکایک صور پھونکا جائے گا۔ کوئی کپڑا خرید رہا تھا تو ہاتھ سے کپڑا رکھنے کی نوبت نہ آئے گی کہ ختم ہوجائے گا۔ کوئی اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے حوض بھرے گا اور ابھی پلانے نہ پائے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ کوئی کھانا کھانے بیٹھے گا اور لقمہ اٹھا کر منہ تک لے جانے کی بھی اسے مہلت نہ ملے گی۔
Tafheem-ul-Quran - 36 : 50