Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 5

  1. رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ﴿5﴾

    1. رَبُّپروردگار
    2. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    3. وَالْاَرْضِاور زمین
    4. وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان کے درمیان
    5. وَرَبُّاور پروردگار
    6. الْمَشَارِقِمشرقوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا  مالک ہے جو زمین  و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں 3 کا مالک۔ 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الصّٰٓفّٰت 3 سورج ہمیشہ ایک ہی مطلع سے نہیں نکلتا بلکہ ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع ہوتا ہے۔ نیز ساری زمین پر وہ بیک وقت طابع نہیں ہوجاتا بلکہ زمین کے مختلف حصوں پر مختلف اوقات میں اس کا طلوع ہوا کرتا ہے۔ ان وجوہ سے مشرق کے بجائے مشارق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ مغارب کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ مشارق کا لفظ خود ہی مغارب پر دلالت کرتا ہے، تاہم ایک جگہ رَبُّ المَشَارق و المغارب کے الفاظ بھی آئے ہیں (المعارج۔ 40)۔ سورة الصّٰٓفّٰت 4 ان آیات میں جو حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا مالک و فرمانروا ہی انسانوں کا اصل معبود ہے، اور وہی درحقیقت معبود ہوسکتا ہے، اور اسی کو معبود ہونا چاہیے۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ رب (یعنی مالک اور حاکم اور مربی و پروردگار) کوئی ہو اور الٰہ (عبادت کا مستحق) کوئی اور ہوجائے۔ عبادت کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ آدمی کا نفع و ضرر، اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا پورا ہونا، اس کی قسمت کا بننا اور بگڑنا، بلکہ بجائے خود اس کا وجود و بقا ہی جس کے اختیار میں ہے، اس کی بالا تری تسلیم کرنا اور اس کے آگے جھکنا آدمی کی فطرت کا عین تقاضا ہے۔ اس وجہ کو آدمی سمجھ لے تو خود بخود اس کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ اختیارات والے کی عبادت کرنا، دونوں صریح خلاف عقل و فطرت ہیں۔ عبادت کا استحقاق پہنچتا ہی اس کو ہے جو اقتدار رکھتا ہے۔ رہیں بےاقتدار ہستیاں تو وہ نہ اس کی مستحق ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے، اور نہ ان کی عبادت کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے کا کچھ حاصل ہے، کیونکہ ہماری کسی درخواست پر کوئی کارروائی کرنا سرے سے ان کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔ ان کے آگے عاجزی و نیاز مندی کے ساتھ جھکنا اور ان سے دعا مانگنا بالکل ویسا ہی احمقانہ فعل ہے جیسے کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے جائے اور اس کے حضور درخواست پیش کرنے کے بجائے جو دوسرے سائلین وہاں درخواستیں لیے کھڑے ہوں ان ہی میں سے کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجائے۔