Tafheem-ul-Quran - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
اے نبیؐ ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، 16 اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داوٴدؑ کا قصّہ بیان کرو 17 جو بڑی قوّتوں کا مالک تھا۔ 18 ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا تھا
سورة صٓ 16 اشارہ ہے کفار مکہ کی ان باتوں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے، یعنی نبی ﷺ کے متعلق ان کی یہ بکواس کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے، اور ان کا یہ اعتراض کہ اللہ میاں کے پاس رسول بنانے کے لیے کیا بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا۔ اور یہ الزام کہ اس دعوت توحید سے اس شخص کا مقصد کوئی مذہبی تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کی نیت کچھ اور ہی ہے۔ سورة صٓ 17 اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔ " پہلے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے۔ اور دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ اس قصے کی یاد خود تمہیں صبر کرنے میں مدد دے گی۔ چونکہ یہ قصہ بیان کرنے سے دونوں ہی باتیں مقصود ہیں، اس لیے الفاظ ایسے استعمال کیے گئے ہیں جو دونوں مفہوموں پر دلالت کرتے ہیں (حضرت داؤد کے قصے کی تفصیلات اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکی ہیں تفہیم القرآن جلد اول، صفحہ 191۔ جلد دوم، صفحات 597 و 624۔ جلد سوم، صفحات 173 تا 176 و 560۔ 561۔ جلد چہارم، حواشی سورة صفحہ نمبر 14 تا 16) سورة صٓ 18 اصل الفاظ ہیں ذالْاَیْد، " ہاتھوں والا "۔ ہاتھ کا لفظ صرف عربی زبان ہی میں نہیں، دوسری زبانوں میں بھی وقت وقدرت کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ حضرت داؤد کے لیے جب ان کی صفت کے طور پر یہ فرمایا گیا کہ وہ " ہاتھوں والے " تھے تو اس کا مطلب لازماً یہی ہوگا کہ وہ بڑی قوتوں کے مالک تھے۔ ان قوتوں سے بہت سی قوتیں مراد ہوسکتی ہیں۔ مثلاً جسمانی طاقت، جس کا مظاہرہ انہوں نے جالوت سے جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ فوجی اور سیاسی طاقت، جس سے انہوں نے گرد و پیش کی مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کردی تھی۔ اخلاقی طاقت، جس کی بدولت انہوں نے بادشاہی میں فقیری کی اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے اور اس کے حدود کی پابندی کرتے رہے۔ اور عبادت کی طاقت، جس کا حال یہ تھا کہ حکومت و فرمانروائی اور جہاد فی سبیل اللہ کی مصروفیتوں کے باوجود، صحیحین کی روایت کے مطابق، وہ ہمیشہ ایک دن بیچ روزہ رکھتے تھے اور روزانہ ایک تہائی رات نماز میں گزارتے تھے۔ امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوالدّرداء کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت داؤد کا ذکر آتا تھا تو نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کان اَعْبَدَ الْبَشَرِ ، " وہ سب سے زیادہ عبادت گزار آدمی تھے۔ "
Top