Tafheem-ul-Quran - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
ہم نے اس کی سلطنت مضبُوط کر دی تھی، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کُن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ 20
سورة صٓ 20 یعنی ان کا کلام الجھا ہوا نہ تھا کہ ساری تقریر سن کر بھی آدمی نہ سمجھ سکے کہ کہنا کیا چاہتے ہیں، بلکہ وہ جس معاملہ پر بھی گفتگو کرتے، اس کے تمام بنیادی نکات کو منقح کر کے رکھ دیتے، اور اصل فیصلہ طلب مسئلے کو ٹھیک ٹھیک متعین کر کے اس کا بالکل دو ٹوک جواب دے دیتے تھے۔ یہ بات کسی شخص کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک وہ عقل و فہم اور قادر الکلامی کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا ہوا نہ ہو۔
Top