Tafheem-ul-Quran - Saad : 32
فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ
فَقَالَ : تو اس نے کہا اِنِّىْٓ : بیشک میں اَحْبَبْتُ : میں نے دوست رکھا حُبَّ الْخَيْرِ : مال کی محبت عَنْ : سے ذِكْرِ رَبِّيْ ۚ : اپنے رب کی یاد حَتّٰى : یہاں تک کہ تَوَارَتْ : چھپ گیا بِالْحِجَابِ : پردہ میں
تو اس نے کہا”میں نے اس مال 34 کی محبّت اپنے ربّ کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے۔“ یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے
سورة صٓ 34 اصل میں لفظ خَیْر استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں مال کثیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور گھوڑوں کے لیے بھی مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ نے ان گھوڑوں کو چونکہ راہ خدا میں جہاد کے لیے رکھا تھا، اس لیے انہوں نے " خیر " کے لفظ سے ان کو تعبیر فرمایا۔
Top