Tafheem-ul-Quran - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایّوبؑ  کا ذکر کرو، 41 جب اس نے اپنے ربّ کو پُکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے۔ 42
سورة صٓ 41 یہ چوتھا مقام ہے جہاں حضرت ایوب ؑ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نساء آیت 163، سورة انعام آیت 84، سورة انبیاء آیات 83۔ 84 میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم تفسیر سورة انبیاء میں ان کے حالات کی تفصیل بیان کرچکے ہیں۔ (تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحات 178 تا 181) سورة صٓ 42 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیطان نے مجھے بیماری میں مبتلا کردیا ہے اور میرے اوپر مصائب نازل کردیے ہیں، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت، مال و دولت کے ضیاع، اور اعزہ و اقربا کے منہ موڑ لینے سے میں جس تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہوں اس سے بڑھ کر تکلیف اور عذاب میرے لیے یہ ہے کہ شیطان اپنے وسوسوں سے مجھے تنگ کر رہا ہے، وہ ان حالات میں مجھے اپنے رب سے مایوس کرنے کی کوشش کرتا ہے، مجھے اپنے رب کا ناشکرا بنانا چاہتا ہے، اور اس بات کے درپے ہے کہ میں دامن صبر ہاتھ سے چھوڑ بیٹھوں۔ حضرت ایوب کی فریاد کا یہ مطلب ہمارے نزدیک دو وجوہ سے قابل ترجیح ہے، ایک یہ کہ قرآن مجید کی رو سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو صرف وسوسہ اندازی ہی کی طاقت عطا فرمائی ہے، یہ اختیارات اس کو نہیں دیے ہیں کہ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو بیمار ڈال دے اور انہیں جسمانی اذیتیں دے کر بندگی کی راہ سے ہٹنے پر مجبور کرے۔ دوسرے یہ کہ سورة انبیاء میں جہاں حضرت ایوب علی السلام اپنی بیماری کی شکایت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں وہاں شیطان کا کوئی ذکر نہیں کرتے بلکہ صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ، " مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔ "
Top