Tafheem-ul-Quran - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نِکل گئے 6 کہ ”چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر۔ یہ بات 7 تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ 8
سورة صٓ 6 اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی ﷺ کی بات سن کر ابو طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے۔ سورة صٓ 7 یعنی حضور ﷺ کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہوجائیں گے۔ سورة صٓ 8 ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے، دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد ﷺ کے تابع فرمان ہوجائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں۔
Top