Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 38. Saad · Ayah 6

  1. وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ﴿6﴾

    1. وَانْطَلَقَاور چل پڑے
    2. الْمَلَاُسردار
    3. مِنْهُمْان کے
    4. اَنِکہ
    5. امْشُوْاچلو
    6. وَاصْبِرُوْااور جمے رہو
    7. عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښاپنے معبودوں پر
    8. اِنَّ ھٰذَابیشک یہ
    9. لَشَيْءٌکوئی شے (بات)
    10. يُّرَادُارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نِکل گئے 6 کہ ”چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر۔ یہ بات 7 تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ 8
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة صٓ 6 اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی ﷺ کی بات سن کر ابو طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے۔ سورة صٓ 7 یعنی حضور ﷺ کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہوجائیں گے۔ سورة صٓ 8 ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے، دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد ﷺ کے تابع فرمان ہوجائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں۔