Tafheem-ul-Quran - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
ربّ نے فرمایا”اے ابلیس، تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ 64 تُو بڑا  بن رہا ہے یا تُو ہے ہی کچھ اُونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟“
سورة صٓ 64 یہ الفاظ تخلیق انسانی کے شرف پر دلالت کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ بادشاہ کا اپنے خدام سے کوئی کام کرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک معمولی کام تھا جو خدام سے کرا لیا گیا۔ بخلاف اس کے بادشاہ کا کسی کام کو بنفس نفیس انجام دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک افضل و اشرف کام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جسے میں نے خود بلا واسطہ بنایا ہے اس کے آگے جھکنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟ " دونوں ہاتھوں " کے لفظ سے غالباً اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کے دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی بنا پر وہ حیوانات کی جنس میں سے ایک نوع ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے اندر وہ روح ڈال دی گئی جس کی بنا پر وہ اپنی صفات میں تمام ارضی مخلوقات سے اشرف و افضل ہوگیا۔
Top