تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 38. Saad · Ayah 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ﴿8﴾
- ءَاُنْزِلَکیا نازل کیا گیا
- عَلَيْهِاس پر
- الذِّكْرُذکر (کلام)
- مِنْۢ بَيْنِنَا ۭہم میں سے
- بَلْبلکہ
- هُمْوہ
- فِيْ شَكٍّشک میں
- مِّنْ ذِكْرِيْ ۚمیری نصیحت سے
- بَلْبلکہ
- لَّمَّانہیں
- يَذُوْقُوْاچکھا انہوں نے
- عَذَابِمیرا عذاب
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟“اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ”ذِکر“ پر شک کر رہے ہیں، 10 اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نےمیرے عذاب کا مزا چکھّا نہیں ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة صٓ 10
با الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ یہ لوگ دراصل تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تمہاری صداقت پر تو پہلے کبھی انہوں نے شک نہیں کیا تھا۔ آج یہ شک جو کیا جا رہا ہے یہ دراصل میرے " ذکر " کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب تمہارے سپرد کی تو یہ اسی شخص کی صداقت میں شک کرنے لگے جس کی راستبازی کی پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ یہی مضمون سورة انعام آیت 33 میں بھی گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 534)۔