Tafheem-ul-Quran - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
(ا ے نبیؐ)اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، 71 اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔ 72
سورة صٓ 71 یعنی میں ایک بےغرض آدمی ہوں، اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے یہ تبلیغ نہیں کر رہا ہوں۔ سورة صٓ 72 یعنی میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ کچھ بن بیٹھتے ہیں جو فی الواقع وہ نہیں ہوتے۔ یہ بات نبی ﷺ کی زبان سے محض کفار مکہ کی اطلاع کے لیے نہیں کہوائی گئی ہے، بلکہ اس کے پیچھے حضور ﷺ کی وہ پوری زندگی شہادت کے طور پر موجود ہے جو نبوت سے پہلے انہی کفار کے درمیان چالیس برس تک گزر چکی تھی۔ مکہ کا بچہ بچہ یہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ ایک بناوٹی آدمی نہیں ہیں۔ پوری قوم میں کسی شخص نے بھی کبھی ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جس سے یہ شبہ کرنے کی گنجائش ہوتی کہ وہ کچھ بننا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔
Top