Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 17

  1. وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ﴿17﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    2. اجْتَنَبُوابچتے رہے
    3. الطَّاغُوْتَسرکش (شیطان)
    4. اَنْکہ
    5. يَّعْبُدُوْهَااس کی پرستش کریں
    6. وَاَنَابُوْٓااور انہوں نے رجوع کیا
    7. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    8. لَهُمُان کے لیے
    9. الْبُشْرٰى ۚخوشخبری
    10. فَبَشِّرْسو خوشخبری دیں
    11. عِبَادِمیرے بندوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت 35 کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رُجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے۔ پس (اے نبی ؐ)بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّمَر 35 طاغوت طغیان سے ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ کسی کو طاغی (سرکش) کہنے کے بجائے اگر طاغوت (سرکشی) کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انتہا درجے کا سرکش ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو حسین کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ وہ حسن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خوبصورتی میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ معبودان غیر اللہ کو طاغوت اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا دوسرے کی بندگی کرنا تو صرف سرکشی ہے مگر جو دوسروں سے اپنی بندگی کرائے وہ کمال درجہ کا سرکش ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، صفحات 196۔ 197۔ 366۔ 367۔ 373۔ جلد دوم صفحہ 540)۔ طاغوت کا لفظ یہاں طواغیت، یعنی بہت سے طاغوتوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اسی لیے اَنْ یَّعْبُدُوْھَا فرمایا گیا۔ اگر واحد مراد ہوتا تو یَعْبُدُوْہُ ہوتا۔