Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 21

  1. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ع﴿21﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تو نے نہیں دیکھا
    2. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    3. اَنْزَلَاتارا
    4. مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
    5. مَآءًپانی
    6. فَسَلَكَهٗپھر چلایا اس کو
    7. يَنَابِيْعَچشمے
    8. فِي الْاَرْضِزمین میں
    9. ثُمَّپھر
    10. يُخْرِجُوہ نکالتا ہے
    11. بِهٖاس سے
    12. زَرْعًاکھیتی
    13. مُّخْتَلِفًامختلف
    14. اَلْوَانُهٗاس کے رنگ
    15. ثُمَّ يَهِيْجُپھر وہ خشک ہوجاتی ہے
    16. فَتَرٰىهُپھر تو دیکھے اسے
    17. مُصْفَرًّازرد
    18. ثُمَّ يَجْعَلُهٗپھر وہ کردیتا ہے اسے
    19. حُطَامًا ۭچورا چورا
    20. اِنَّبیشک
    21. فِيْ ذٰلِكَاس میں
    22. لَذِكْرٰىالبتہ نصیحت
    23. لِاُولِي الْاَلْبَابِعقل والوں کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاوٴں 38 کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سُوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں ، پھر آخر کار اللہ اُن کو بھُس بنا دیتا ہے۔ درحقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے۔ 39
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّمَر 38 اصل میں لفظ ینابیع استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق ان تینوں چیزوں پر ہوتا ہے۔ سورة الزُّمَر 39 یعنی اس سے ایک صاحب عقل آدمی یہ سبق لیتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی زینتیں سب عارضی ہیں۔ ہر بہار انجام خزاں ہے۔ ہر شباب کا انجام ضعیفی اور موت ہے۔ ہر عروج آ خر کار زوال دیکھنے والا ہے۔ لہٰذا یہ دنیا وہ چیز نہیں ہے جس کے حسن پر فریفتہ ہو کر آدمی خدا اور آخرت کو بھول جائے اور یہاں کی چند روزہ بہار کے مزے لوٹنے کی خاطر وہ حرکتیں کریں جو اس کی عاقبت برباد کردیں۔ پھر ایک صاحب عقل آدمی ان مناظر سے یہ سبق بھی لیتا ہے کہ اس دنیا کی بہار اور خزاں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے پروان چڑھاتا ہے اور جسے چاہتا ہے خستہ و خراب کردیتا ہے۔ نہ کسی کے بس میں یہ ہے کہ اللہ جسے پروان چڑھا رہا ہو اس کو پھلنے پھولنے سے روک دے۔ اور نہ کوئی یہ طاقت رکھتا ہے کہ جسے اللہ غارت کرنا چاہے اسے وہ خاک میں ملنے سے بچا لے۔