Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 8

  1. وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ﴿8﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. مَسَّلگے پہنچے
    3. الْاِنْسَانَانسان
    4. ضُرٌّکوئی سختی
    5. دَعَا رَبَّهٗوہ پکارتا ہے اپنا رب
    6. مُنِيْبًارجوع کر کے
    7. اِلَيْهِاس کی طرف
    8. ثُمَّ اِذَاپھر جب
    9. خَوَّلَهٗوہ اسے دے
    10. نِعْمَةًنعمت
    11. مِّنْهُاپنی طرف سے
    12. نَسِيَوہ بھول جاتا ہے
    13. مَاجو
    14. كَانَ يَدْعُوْٓاوہ پکارتا تھا
    15. اِلَيْهِاس کی طرف ۔ لیے
    16. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    17. وَجَعَلَاور وہ بنا لیتا ہے
    18. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    19. اَنْدَادًا(جمع) شریک
    20. لِّيُضِلَّتاکہ گمراہ کرے
    21. عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاس کے راستے سے
    22. قُلْفرمادیں
    23. تَمَتَّعْفائدہ اٹھا لے
    24. بِكُفْرِكَاپنے کفر سے
    25. قَلِيْلًا ڰتھوڑا
    26. اِنَّكَبیشک تو
    27. مِنْسے
    28. اَصْحٰبِ النَّارِآگ (دوزخ) والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے 23 تو وہ اپنے ربّ کی طرف رُجوع کر کے اُسے پکارتا ہے 24۔ پھر جب اس کا ربّ اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھُول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا 25 اور دُوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہراتا ہے 26 تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے۔ 27 (اے نبیؐ)اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کُفر سے لُطف اُٹھا لے، یقیناً تُو دوزخ میں جانے والا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّمَر 23 انسان سے مراد یہاں وہ کافر انسان ہے جس نے ناشکری کی روش اختیار کر رکھی ہو۔ سورة الزُّمَر 24 یعنی اس وقت اسے وہ دوسرے معبود یاد نہیں آتے جنہیں وہ اپنے اچھے حال میں پکارا کرتا تھا، بلکہ ان سب سے مایوس ہو کر وہ صرف اللہ رب العالمین کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے بےاختیار ہونے کا احساس رکھتا ہے اور اس حقیقت کا شعور بھی اس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں دبا چھپا موجود ہے کہ اصل اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔ سورة الزُّمَر 25 یعنی وہ برا وقت پھر اسے یاد نہیں رہتا جس میں وہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک سے دعائیں مانگ رہا تھا۔ سورة الزُّمَر 26 یعنی پھر دوسروں کی بندگی کرنے لگتا ہے۔ انہی کی اطاعت کرتا ہے، انہی سے دعائیں مانگتا ہے، اور انہی کے آگے نذر و نیاز پیش کرنا شروع کردیتا ہے۔ سورة الزُّمَر 27 یعنی خود گمراہ ہونے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی یہ کہہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ جو آفت مجھ پر آئی تھی وہ فلان حضرت یا فلاں دیوی یا دیوتا کے صدقے میں ٹل گئی۔ اس سے دوسرے بہت سے لوگ بھی ان معبودان غیر اللہ کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربات بیان کر کر کے عوام کی اس گمراہی کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔